.

.

نماز مومن کی معراج ہے۔


    کسی بھی چیز کے فضائل بیان کرنے سے اس چیز کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو چیز جتنی قیمتی ہو اسی بقدر اس کے
    فضائل زیادہ ہوتے ہیں،شریعت محمدی ﷺ میں بھی انسانی اعمال جب تک اپنے فضائل  کے مطابق ایک مسلمان کی زندگی میں آتے ہیں تو اس عمل کا اصل حاصل ہو جاتا ہے۔ نماز، روزہ، قربانی،جہاد، زکوۃ، عبادات معاملات، عرض ہر ہر شعبہ میں اسلام نے انسانی رہنمائی کی ہے۔ ان ہر عمل کی فضیلت بھی انسان کو بتا دی گئی ہے۔عبادات میں سب سے اہم عبادت نماز ہے۔ جوکم و بیش 700 مرتبہ قرآن کریم میں حکم فرمائی گئی ہے۔ دنیاوی مشاہدہ ہے کہ جو بات جس قدر ضروری ہے اس کی تاکید بھی اسی بقدر کی جاتی ہے۔ نماز کا اس قدر تکرار
    کے ساتھ ہمیں حکم ہونا نماز کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ حضور اقدس ﷺ نے ادائیگی نماز کی بہت تاکید کی ہے۔ایک صحیح حدیث کے مطابق آپ ﷺ یہاں تک فرمایا کہ جو نماز نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں مزید فرمایا کہ کفر اور اسلام کے درمیان صرف نماز کا فرق ہے۔آپ ﷺ نے نماز کی مثال یوں ارشاد فرمائی کہ نماز دین میں ایسی ہے جیسا کہ آدمی کے بدن میں اس کا سر ہوتا ہے۔۔۔۔ یعنی دھڑ اور سر مل کر ایک مکمل جسم بناتے ہیں، سردھڑ کے بنا اور دھڑ سر کے بنا بے معنی ہے۔

    نماز مومن کی معراج ہے۔ اس جملے اور اس نوع کے دیگر جملے ہمیں بچپن سے ہی یاد کرائے جاتے ہیں بلکہ رٹائے جاتے ہیں ۔ ہماری زندگیاں مادہ میں اس قدر منہمک ہیں ہیں کہ ہمیں کبھی اپنے اعمال شریعہ کا محاسبہ کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ہم نے کبھی
    اس حقیقت کو پانے کی نہ تو ہم جستجو کی، نہ ہی ہمیں ضرورت محسوس ہوئی۔۔ رٹی رٹائی نمازیں بچپن سے جوانی اور جوانی سے پڑھاپے تک پڑھتے گئے۔ یہ جانے بنا کہ آیا نماز کے وہ تقاضے پورے ہوئے جس کی متقاضی شریعت ہے۔۔۔

    "معراج" کے لغوی معنی ہیں۔"اوپر چڑھنے کی چیز، سیڑھی، زینہ، نردبان، نسینی"۔۔۔

    اصطلاحی معنوں میں لفظ معراج کی تعبیر یوں ہوگی "وہ درجہ جس سے زیادہ تصور میں نہ آ سکے، انتہائی عروج یا ترقی، درجۂ اعلٰی، بلند رتبہ"۔اب اگر ان معانی و مفہوم کو نماز سے مربوط کرکے نماز کا تصور کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کو کمال اوج تک پہچا کر اسے امر کرتی ہے۔۔۔ فرد کی روح کو اس قدر بلند کرتی ہے اور وہ اپنے خالق کی معرفت کے قریب سے قریب تر ہونے لگتا ہے۔
    اسی وجہ سے نماز کو مومن کی معراج کہا گیا ہے۔قرب الہی کا واحد ذریعہ ہی نماز ہے۔۔ نماز سے بڑھ کر کوئی عمل اللہ تعالیٰ کی قربت نہیں دلا سکتا ہے۔۔

    حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میرا دل کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کلام کروں تو میں نماز کے لئے ہاتھ باندھ کر اللہ کے حضور متوجہ ہو جاتا ہوں۔۔ اور جب میرا من اللہ تعالیٰ کا مجھ سے ہم کلام ہونے کو کرتا ہے قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہوں۔۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں اعمال کرنے کی توفیق دے۔ امین
    ۔

    تاریخ اشاعت: 26 مارچ 2013
    گوگل پلس پر شئیر کریں

    Syed Asif Jalal

    سید آصف جلالؔ بلاگ ہذا کے مصنف ہیں۔ علمی ، ادبی،سیاسی اور معاشی موضوعات پر لکھنے ہیں ۔
      بذریعہ جی میل تبصرہ
      بذریعہ فیس بک تبصرہ