.

.

کرسمس۔۔۔۔ ایک تاریخ

    سورۃ اخلاص میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔۔۔ترجمہ: ’’کہو وہ اللہ ایک ہے،‘یکتا۔اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں‘‘۔اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام پر تمام ادیان و مذاہب کو منسوخ کر دیا ہے اب قیامت تک یہی دین ، دینِ حق ہے جو کہ تمام عالم انسانیت کے لئے قیامت تک کے لئے ہیں۔اور نبی اکرم ﷺ قیامت تک کے انسانوں کے لئے نبی ہیں۔ اللہ اپنے امر میں کسی کی مدد کا محتاج نہیں۔ وہ جب چاہے جس وقت چاہے جدھر چاہے جسطرح چاہے اپنے امرمیں خود مختار ہے۔۔۔عقیدہ توحید ایک مسلمان کی ایمان کی بنیاد ہے ۔ لاالہ الااللہ۔۔۔اللہ کے سوا کوئی معبود
    نہیں۔۔۔اور کلمہ کا دوسرا جز محمد الرسول اللہ۔۔۔حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔یعنی اسلام دراصل اللہ کو بنی اکرم ﷺ کے واسطے سے ماننے کا نام ہے۔کلمہ توحید کے قلبی و لسانی اقرار کے بعد ایک انسان دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے۔ اس دخول کے بعد وہ مسلمان کہلاتا ہے، اور بطور مسلم اس پر اسلام کے جملہ احکامات کی پابندی فرض ہو جاتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی جیسے ایک ملک کا باشندہ دوسرے ملک میں جا کر سکونت اختیار کرتا ہے تو اس ملک کے قوانین کے مطابق اس کو اس ملک میں اپنی زندگی ملکی قوانین کئے تحت گزارنی پڑتی ہے قانون سے روگردانی کی صورت میں قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی جانب سے اس پر تعزیرات عائد کی جاتی ہیں۔ اسی طرح کلمہ گو مسلمان پربھی اسلام کے احکامات کی بجا آواری لازم آتی ہے۔ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ ٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے مبعوث کر دہ رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک اوربے نیاز ذات ہے۔
    اسلام کے بالمقابل مذاہب عالم میں عیسی علیہ السلام کے پیروکاروں(عیسائیوں) کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں (معاذاللہ) اور وہ یوم ولادت عیسی علیہ السلام ہر سال 25دسمبر کو مناتے ہیں اور اس دن کو ’’بڑے دن‘‘ کے نام سے منسوب کرتے ہیں حالانکہ حقیقتاً یہ سال کے سب سے چھوٹے دن ہوتے ہیں۔مسلمانوں کو اسے دن کو بڑا کہنے سے اجتناب کرنا چاہیئے۔۔۔ اس دن کو ’’کرسمس ‘‘ کہا جاتا ہے۔۔۔کرسمس (Chirstmass)یہ لفظ دراصل دو الفاظChirst اور Massکا مجموعہ ہے۔ chirst کے معنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور Mass اکھٹا ہونے کو کہتے ہیں۔یعنی عیسی ٰ علیہ السلام کے لئے اکھٹا ہونا۔

    کرسمس کے تاریخی پہلو پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اس لفظ کو ہم چوتھی صدی عیسوی میں پائینگے۔ اس سے قبل اس لفظ کاتاریخی حوالے سے کوئی تذکرہ دستیاب نہیں۔ کرسمس کو یول ڈے نیٹوئی اور نوائل کے نام سے بھی منایا جاتا ہے۔یوم ولادت مسیح منانے کے حوالے سے عیسائی تین فرقوں میں منقسم ہیں۔ رومن کیتھولک اور پروٹسنٹ کلیسائی اسے 25دسمبر کو مناتے ہیں جبکہ دوسرا گروہ مشرقی آرتھوڈوکس کلیسائی سے 6جنوری کو جبکہ آرمینیا کلیسائی اسے 9جنوری کو مناتے ہیں۔

    تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ 25دسمبر کو کرسمس منانے کارواج شاہ قسطنطین کے دور325 ؁ء میں شروع ہوا۔ اس سے پہلے کر سمس یا ولادت مسیح منانا ایک بدعت تصور کیا جاتا تھا۔ ولادت مسیح علیہ السلام کے حوالے سے حتمی تاریخ طے نہیں، انجیل کے مطابق اس رات گڈریے اپنی بھیڑوں کو لئے کھیتوں میں موجود تھے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا نے اس روایت پر تنقید کی ہے اور یہ لکھا ہے کہ ملک یہودیہ میں دسمبر میں سخت سردی کی لپیٹ میں ہوتا ہے، ان دنوں کھلے آسمان تلے رات کو گڈریے اور بھیڑیں کس طرح کھلے آسمان تلے رہ سکتی ہے۔۔۔یوم ولادتِ مسیح علیہ السلام کے حوالے سے یہ تنقید پُرمعنی ہے۔

    چار صدیوں تک 25 دسمبرکی تاریخ کو یوم ولادت مسیح کو صحیح نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس تاریخی کی تحقیق کے لئے 530 ؁ء میں سیتھیا کا ایک راہب منجم ڈیونیس اکسیگز کو حضرت مسیح کی ولاد ت کی تاریخ معلوم کرنے پر متعین کیا گیا اکسیگز ستاروں کے علم کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔۔۔اس نے اپنے ستاروں کے علم سے ولادت مسیح علیہ السلام 25 دسمبر قرار دی کیونکہ ولادت مسیح سے پانچ صدیاں قبل 25دسمبر ایک مقدس دن تھا۔بہت سے سورج دیوتا اسی تاریخ پر یا اس کے دو دن بعد پیدا ہونا تسلیم کئے جا چکے تھے ۔ چنانچہ اس راہب نے آفتاب پرست لوگوں میں عیسائیت کو مقبول بنانے کئے 25 دسمبر کی تاریخ مقر ر کی۔

    قرآن کریم کی سورۃ مریم آیت 25میں اللہ تعالیٰ نے مریم علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرمایا :’’اور کھجور کے تنے کو پکڑ کے اپنی طرف ہلاؤ، تم پر تازہ تازہ کھجوریں جڑ پڑیں گی‘‘۔ اس ایت مبارکہ سے مفسرین یہ معنی بتائے ہیں کہ ملک فلسطین میں موسم گرما کے وسط میں ہی کھجوریں ہوتی ہیں۔۔۔اس لئے اس آیت مبارکہ سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے ولادت کے ایام جولائی یا اگست کے ہو سکتے ہیں۔

    کرسمس کے منسوب ایک اور روایت ’’کرسمس ٹری‘‘ کی ہے۔ کر سمس ٹری کی ایک دلچسپ تاریخ ہے۔۔ کرسمس ٹری کا تصور اوائل دور میں ناپیدتھا،اس رسم کی ابتداٗ جرمنی سے ہوئی ۔ جرمن کے عیسائی کرسمس کے موقع پر ایک سٹیج ڈرامے کا اہتمام کیا کرتے تھے اس ڈرامے میں وہ حضرت مریم علیہا السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دکھاتے تھے۔اور حضرت مریم علیہاالسلام کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو دہراتے۔ اس ڈرامے میں ایک درخت کو حضرت مریم علیہ السلام کے تنہائی کے ساتھی کے طور پر دکھایا جاتاتھا ڈرامے کے آخر میں تبرک کے طور پر ناظرین اس درخت کی ٹہنیاں ساتھ لے جاتے تھے اور اپنے گھر میں ایسی جگہ اویزاں کرتے جہاں ان کی نظر پڑتی رہی ، رفتہ رفتہ یہ رسم کرسمس ٹری کی شکل اختیار کر گئی، وقت گزرنے کے ساتھ اس درخت کو پُررونق بنانے کے لئے اس ساتھ کھلونے سجانے کا بھی اہتمام کیاگیا۔کر سمس ٹری کا رسم 19ویں صدی تک جرمن تک محدود رہی ۔ بعد میں ٹیکنالوجی کی ترقی سے دنیا کے دیگر خطوں تک پہنچتی گئی۔

    یوم ولادت مسیح علیہ السلام کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی حیات میں کبھی کرسمس نہیں منائی حتیٰ کہ آپ کی ولادت کے 325سال بعد تک اس رسم کا تصور نہیں ملتا جس کی اس رسم کی حقیقت مشکوک ٹھہرتی ہے۔لیکن آج کے دور میں بڑے زور و شور سے کرسمس کی محافل کی اہتمام ہوتا ہے۔ اور سارا سال اہل مسیح اس دن کا انتظار کرتے ہیں۔۔۔عیسائی تو ایک طر ف ہمارے مسلمان بھائی بھی کرسمس کے موقع پر ان محافل میں شریک ہوتے ہیں ، مبارکبادیں دیتے ہیں، کرسمس کارڈ بھیجے جاتے ہیں، کھانوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ اور یہ سب کچھ کس دلیل کے تحت کیا جاتا ہے؟ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ کرسمس کونسا مذہبی تہوار ہے یہ تو ایک سماجی تہوار ہے ، اور ہمیں غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کا جو حکم ملا وہ اس کا متقاضی ہے کہ ہم’ خوشی‘ کے اس موقع ان کے ساتھ شریک ہوں، اور ان کے ساتھ ملکر کر سمس کیک کاٹیں۔

    رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو جس قوم سے مشاہبت اختیار کریگا قیامت کے دن اسی سے اٹھایا جائیگا (ابی داؤد)

    سلف و خلف کے فقہااور علمائے اکرام اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی قوم کے مذہبی تہواروں کی تعظیم اور تقریبات کا انعقاد شعوری طور پر کیا جائے تو یہ کفر ہے اور فعل سے انسان ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

    سنن ابی داؤد کی ایک روایت:

     ’’حضرت ثابت بن ضحاکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے یہ نذر مانی کہ وہ مقام بوانہ میں ایک اونٹ ذبح کرے گا، وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! میں نے بوانہ میں ایک اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے ، آپ ﷺ نے صحابہ اکرامؓ سے پوچھا، کیا بوانہ میں زمانہ جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھاجس کی وہاں پوجا کی جاتی تھی؟صحابہؓ نے عرض کہ نہیں، پھر آپ ﷺ نے پوچھا وہاں کفار کا کوئی میلہ لگتا تھا؟ عرض کیا کہ نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص سے مخاطب ہو کر فرمایا تو اپنی نذر پوری کر کیونکہ ایسی نذر کا پورا کرنا درست نہیں جو معصیت ہو یا جو آدمی سے بس سے باہر ہو‘‘۔

    حدیث بالا کی روشنی میں امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ :’’جب جاہلی میلوں اور عبادت گاہوں پر کسی عقیدت مندانہ حاضری کو منع کر دیا گیا تو خود جاہلی عیدوں میں شرکت بدرجہ اولی ممنوع ہو گئی‘‘۔

    سورۃ الفرقان ایت نمبر 72 کی ’’رحمان کے بندے جھوٹ پر گواہ نہیں ہوتے‘‘۔ اس آیت میں تفسیر میں ’’الزور‘‘ کو تابعین نے غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات مراد لیا ہے۔کرسمس کیک کاٹنے حوالے سے فقہاء مالکی سے یہ قول بھی منقول ہے کہ ’’جو شخص مشرکین کے کسی تہوار میں خربوزے کوخاص طرح کاٹتا ہے (جیسے اجکل کرسمس کا کیک) تو گویا وہ خنزیر ذبح کر رہا ہے‘‘۔ کتنی سخت وعید ہے ہم مسلمانوں کے لئے، لیکن اس کے باوجود ہم من وعن ’سماجی بھلائی‘ کی اوٹ لیکر شمولیت اختیار کرتے ہیں۔ اور اپنے لئے بد اعمالیوں کا پننڈورا باکس کھولنے کا سامان پیدا کرتے ہیں۔

    قارئین! اسلام نے ہمیں غیر مسلم اقوام کی مشابہت سے منع فرمایا ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم ایک باعمل مسلمان بن کر اسلامی حدود و قیود کے اندر رہتے ہوئے اپنی زندگی گزاریں۔ اس سے ہماری دنیا بھی سنوریں گی اور آخرت بھی۔۔۔ اللہ ہمیں صراط مستقیم ہر چلائے۔ اور ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی عطا فرمائے۔ امین۔


    استفادہ:
    ۱۔           تفسیر ابن کثیر ازحافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیرؒ
    ۲            تفہیم القرآن مولانا سید ابواعلی مودودی ؒ
     3           سہہ ماہی ایقاظ
      4          ماہنامہ الحر مین کراچی صفر المظفر 1434ھ
      5          انصار اللہ اردو ان لائن
    ۶           غیر اسلامی تہوار ۔۔۔ تاریخ ‘حقائق اور مشاہدات۔ ازمحمد اختر صدیق
    ۔
    گوگل پلس پر شئیر کریں

    سید آصف جلال

    سید آصف جلالؔ بلاگ ہذا کے مصنف ہیں۔ علمی ، ادبی،سیاسی اور معاشی موضوعات پر لکھنے ہیں ۔
      بذریعہ جی میل تبصرہ
      بذریعہ فیس بک تبصرہ