.

.

آئینِ پاکستان 1973ء کا آرٹیکل 62 اور 63 کیا ہے؟؟

    الیکشن کی تاریخ قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی ہے، اور سیاسی جماعتیں  مذاکرت، جوڑ توڑ، سیٹ ایجسٹمنٹ، اور دیگر سیاسی
    معاملات کی جانب پیش قدمی کر چکی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم زور و شور سے چلا رہی ہیں۔ سیاسی منظر نامہ میں اس وقت مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف نمایاں ہیں جبکہ پیپلز پارٹی،عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو انتخابی مہم چلانے میں مذاحمت کا سامنا ہے۔ جس بنا پر ان جماعتوں کی انتخابی مہم محدود ہو گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پولنگ بوتھ  کی تشکیل و ترتیب کا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ اور انشاءاللہ 11 مئی 2013 کو عوام و سیاسی جماعتوں کی قسمت کا فیصلہ ہو جائے گا کہ کس میں کتنا دم۔ ۔ ۔

      خوش آئند امر ہے کہ گزشتہ پارلیمنٹ نے  آئینی طور ۵ سالہ پارلیمانی دور باحسن مکمل کیا، قطع نظر اس کے اس دور میں پارلیمان نے عوام کو کیا دیا اور کیا لیا۔ وقت تھا گزر گیا۔۔۔ہر حال اپنے امر کی طرف چلتا ہے اور حالات حاضرہ میں حال کا امرہے کہ پاکستانی عوام اگلے پانچ سالوں کیلئے پارلیمنٹ میں اپنے امیدوار چنیں جو عوامی حقوق کا بہترین تحفظ کر سکیں۔
    میرے اس مضمون کا عنوان ’’آئین کا آرٹیکل62،63‘‘ ہے جس میں آئینِ پاکستان 1973ء قومی اسمبلی کے لئے اراکین کی اہلیت و نااہلیت کے بارے میں بحث کرتا ہے۔لہذا من و عن ان قوائین کو آپ کے سامنے لانے کی کوشش کرتا ہوں۔
    آئین پاکستان کی شق 62 کی رو سے کوئی شحص شوریٰ(پارلیمنٹ ) کا رکن منتخب ہونئے یا چنے جانے کا اہل نہیں ہوگا اگر
    (الف) وہ پاکستان کا شہری نہ ہو۔
    (ب) وہ قومی اسمبلی کی صورت میں، پچیس سال سے کم عمر کا ہو اور کسی انتخابی فہرست میں ووٹر کی حیثیت سے
    ۱) پاکستان کے کسی حصے میں کسی عام نشست یا غیر مسلموں کے لئے محصوص کسی نشست پر انتخاب کے لئے درج نہ ہو اور
    ۲) کسی صوبے میں ایسے علاقے میں جہاں سے وہ خواتین کے لئے محصوص نشست پر انتخاب کے لئے رکنیت چاہتا ہو، درج نہ ہو۔
    (ج) وہ سینٹ کی صورت میں ، تیس سال سے کم عمر کا ہو اور کسی صوبے میں کسی علاقہ میں یا جیسی بھی صورت ہو، وفاقی دارلحکومت یا وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں جہاں سے وہ
    رکنیت چاہتا ہو بطور ووٹر درج نہ ہو۔
    (د) وہ اچھے کردار کا حامل نہ ہو اور عام طور پر احکام اسلام سے انحراف میں مشہور ہو۔
    (ہ) وہ اسلامی تعلیمات کا حاطر خواہ علم نہ رکھتا ہو اور اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند نیز گناہِ کبیرہ سے مجتنب نہ ہو۔
    (و) وہ سمجھدا ر، پارساہو اور فاسق ہو اور ایماندار اور امین نہ ہو۔
    (ز) کسی اخلاقی پستی میں ملوث ہونے یا جھوٹی گواہی دینے کے جُرم میں سزایافتہ ہو۔
    (ح) اس نے قیامِ پاکستان کے بعد ملک کی سالمیت کے خلاف کام کیا ہو یا نظریہ پاکستان کی مخالف کی ہو۔
    مگر شرط ہے کہ پیرا(د) اور (ہ) میں مصرحہ نااہلیتوں کا کسی ایسے شخص پر اطلاق نہیں ہوگا جو غیر مسلم ہو، لیکن ایسا شخص ابھی شہرت کا حامل ہوگا۔
    (ط) وہ ایسی دیگر نااہلیتوں کا حامل نہ ہو جو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے ذریعے مقرر کی گئی ہو۔
    قارئین اکرام! یہ تو تھی آئین پاکستان کی شق 62 (باسٹھ) جس میں امیداوار کی اہلیت کا تعین کیا گیا ہے۔اس شق کے ۹ اجزاء ہیں جس میں ہر ہر جز کا مطالعہ کیجئے اور ذرا اپنے ملک کی پارلیمانی تاریخ پر نظر دھڑائے کہ کیا امیدوران مذکورہ بالا شق پر پورا اترتے ہیں؟؟ اس کا فیصلہ آپ خو دکیجئے۔ آئیے ‘آئینِ پاکستان کے شق 63 جو کہ پارلیمنٹ کی رکنیت کیلئے نااہلیت کے بارے میں رہنمائی کرتا ہے کو دیکھتے ہیں
    اس شق کے مطابق :
    ۱۔ کوئی شخص مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے رکن کے طور پر منتخب ہونے یا چنے جانے اور رکن رہنے کیلئے نا اہل ہوگا ، اگر ۔۔۔
    (الف) وہ فاترالعقل ہو اور کسی مجاز عدالت کی طرف سے ایسے قرار دیا گیا ہو ۔
    (ب) وہ غیرت براٗت یافتہ دیوالیہ ہو
    (ج) وہ پاکستان کا شہری نہ ہواور کسی بیرونی ریاست کی شہریت حاصل کرے
    (د) وہ پاکستان کی ملازمت میں کسی منفعت بخش عہدے پر فائز ہو ماسوائے ایسے عہدے کے جسے قانون کے ذریعے ایسا عہدہ قرار دیا گیا ہو جس فائز شخص نااہل نہیں ہوتا۔
    (ہ) اگر وہ کسی ایسی آئینی ہئیت یا کسی ایسی ہیئت کی ملازمت میں ہو جو حکومت کی ملکیت یا اس کے زیر نگرانی ہو یا جس میں حکموت تعدیلی حصہ یا مفاد رکھتی ہو۔
    (و) شہریت پاکستان ایکٹ،۱۹۵۱ ؁ء (نمبر ۲ بابت ۱۹۵۱ء) کی دفعہ ۱۴ ب کی وجہ سے پاکستان کا شہری ہوتے ہوئیاسے فی الوقت آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کا نااہل قرار دے دیا گیا ہو۔
    (ز) وہ کسی ایسی رائے کی تشہیر کر رہا ہو یا کسی ایسے طریقے پر عمل کر رہا ہو جو نظریہ پاکستان یا پاکستان کے اقتدار اعلیٰ ، سالمیت یا سلامتی یا اخلاقیات ، یا امن عامہ کے قیام یا پاکستان کی عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی کے لئے مضر ہو، یا جو پاکستان کی مسلح افواج یا عدلیہ کو بدنام کرے یا اس کی تضحیک کا باعث ہو۔
    (ح) وہ کسی مجاز سماعت عدالت کی طرف سے فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کے تحت بدعنوانی، اخلاقی پستی ، یا اختیاری اتھارٹی کے بے جا استعمال کے جرم میں سزا یاب ہو چکا ہو۔
    (ط) وہ پاکستان کی ملازمت یا وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت یا مقامی حکومت کی طرف سے قائم کر دہ یا اس کے زیر اختیار کسی کارپوریشن یا دفتر کی ملازمت سے غلط روی یا اخلاقی پستی کی بنا پر برطرف کر دیا گیا ہو۔
    (ع) وہ پاکستان کی ملازمت یا وفاقی حکومت، صوبائی حکومت یا کسی مقامی حکومت کی طرف سے قائم کر دہ یا اس کے زیرِ اختیار کسی کارپوریشن یا دفتر کی ملازمت سے غلط روی یا اخلاقی پستی کی بنا پر ہٹا دیا گیا ہو یا جبری طور پر فارغ خدمت کر دیا گیا ہو۔
    (ک) وہ پاکستان کی یا کسی آئینی ہیئت یا کسی ایسی ہیئت کی جو حکومت کی ملکیت یا اس کے زیر نگرانی ہو یا جس میں حکومت تعدیلی کا حصہ یا مفاد رکھتی ہو، ملازمت میں رہ چکا ہو، تاوقت کہ اس مذکورہ ملازمت ختم ہوئے دو سال کی مدت نہ گزری ہو۔
    (ل) اسے فی الوقت نافذالعمل کسی دیگر قانون کے تحت کسی بدعنوان یا غیر قانونی حرکت کا مجرم قرار دیا جائے تاوقت کہ اس تاریخ کو جس پر مذکورہ حکم موثر ہوا ہو پانچ سال کا عرصہ نہ گزر گیا ہو۔
    (م) وہ سیاسی جماعتوں کے ایکٹ ۱۹۶۲ء(نمبر ۳ بابت ۱۹۶۲) نکی دفعہ ۷ کے تحت سزایاب ہو چکا ہو تاوقت کہ مذکورہ سزایابی کو پانچ سال کی مدت نہ گزر گئی ہو۔
    (ن) وہ ، خواہ بذاتِ خود یا اس کے مفاد میں یااس کے فائدے کیلئے یا س کے حساب میں یا کسی ہندو غیر منقسم خاندان کے رکن کے طور پر کسی شخص یا اشخاص کی جماعت کے ذریعے ، کسی معاہدے میں کوئی حصہ یا مفاد رکھتا ہو، جو انجمن امدادباہمی اورحکومت کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہوجو حکومت کو مال فراہم کرنے کے لئے ، اس کے ساتھ کیے ہوئے کسی معاہدے کی تکمیل یا خدمات کی انجام دہی کے لئے ہو۔

    قارئین ۱۹۷۳ ؁ء کے آئین میں درج رکن پارلیمنٹ کی اہلیت و نا اہلیت کی شقیں آپ کے سامنے رکھی۔ اس شقوں کو غور سے پڑھیئے اور مشاہدہ کیجئے کہ کیا امیدواران اس تمام شقوں پر پورا اترتے ہیں۔فیصلہ آپ کا۔
    ۔
    گوگل پلس پر شئیر کریں

    سید آصف جلال

    سید آصف جلالؔ بلاگ ہذا کے مصنف ہیں۔ علمی ، ادبی،سیاسی اور معاشی موضوعات پر لکھنے ہیں ۔
      تبصرہ بذریعہ گوگل اکاؤنٹ
      تبصرہ بذریعہ فیس بک

    1 تبصروں کی تعداد:

    1. مجھے نہیں لگتا کہ 90 فیصد بھی کوئی ان پر پورا اترتا ہوں

      ReplyDelete

    بہت شکریہ