.

.

یکم مئی (یومِ م مزدور)۔۔بات نفاذِ قانون کی ہے ، قانون سازی کی نہیں۔


آج یکم مئی 2013 ہے۔ یہ دن "یوم مزدور" کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ اس دن مزدور کے حقوق، اس کے مسائل، ان مسائل کا حل، لیبر قوانین پر عمل درامد، مزدوروں کا معاشی تحفظ وغیرہ کے متعلق سیمیناز، کانفرنسسز وغیرہ منعقد ہوتی
ہیں۔ یکم مئی کو این جی اوز، سماجی حقوق کے متعلق آواز اٹھانے والی تنظیمیں ، حکومتی رہنماء اور مزدور تنظیمیوں کےعلمبردار خواب غفلت سےبیدار ہوتے ہیں اور مزدور کی حالت زار کا دل گرفتی کا پیکر بنے مزدور کے حقوق کا نعرہ لگا کر اس ظلم کو بیان کرتے ہیں جو انہوں نے پچھلے سال 2 مئی کو شروع کیا تھا اور30 اپریل تک یہ سلسلہ جاری و ساری رکھا اور آج یکم مئی کو اس ظلم کے ودیعت کردہ زخموں پر مرہم لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قراردادیں پیش ہوتی ہیں، سرمایہ
داروں پر لعن تعن کی جاتی ہے، صنعت کاروں کے ظلم کی دہائی دی جاتی ہیں، مزردور کی معاشی بدحالی کا رونا رویا جاتا ہے، عرض وہ تمام کتابی باتیں جو کہ یہ صاحبان پڑھ کر آرہے ہوتے ہیں ان کا تکرار کر کے عوام الناس کو اپنے "دردِدل" سے آشنا کیا جاتا ہے۔
ایک صحت مند معاشرہ کی پہچان یہ ہے  وہاں قانون اور قانون کی بالادستی قائم ہوتی ہے۔ بدقسمتی ہے کہ مملکتِ پاکستان میں کاروان حیات کے دیگر شعبوں کی طرح معاشی بحران بھی اپنے عروج پر ہے، غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو رہا ہے۔یکم مئی کو یوم مزدور ضرور منایا جاتا ہے لیکن مزدوروں کے ساتھ انصاف نہ تو حکومتی عناصر کرتے ہیں اور نہ مزدور یونینز ۔ اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ مزدور کی حالت روز بروز دگرگوں ہوتی جارہی ہے۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب نے تو مزدور کا جینا حرام کر دیا ہے۔

قارئین! قوانین بنے۔۔ لیبر پالیسیاں تشکیل دی گئیں۔۔ مزدور کی حالت زار کو بہتر بنانے کی "کوششیں" ہوئیں۔ لیکن نتیجہ صفر۔ وجہ نیتوں کا فتور،۔۔واضح رہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد  اب تک چھ (6) لیبر پالیسز بن تشکیل پا چکی ہیں۔پہلی لیبر پالیسی 1955 میں، دوسری1959میں، تیسری 1969 میں، چوتھی 1972، پانچویں 2002 اور چھٹی لیبر پالیسی 2010 یعنی پیپلز پارٹی کے حالیہ دور جمہوریت میں بنائی گئی۔یہ پالیسیاں صرف کاغذی کاروئیاں ثابت ہوئیں، ماسوالئے  1972 کی لببر پالیسی ہے جو  ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت کی مرتب کی گی پُراثر رہی ۔ اور دور میں مزدور کی حالت قدرے بہتر ہوئی، مزدوروں کو انتظامیہ میں 20 فیصد تک نمائیندگی کا موقع دیا گیا۔لیبر کورٹ قائم کی گئیں، جس کے تحت انصاف کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کی جانب پیش رفت ہوئی،اسی طرح مزدور کی بہبود و رہائش کے لئے ورکرز ویلفئیر فنڈ قائم کا گیا. اسی دور کا عظیم کارنامہ عمر رسیدہ افراد کی مالی اعانت کے لئے ایک ادارہ کا قیام ہے۔ Employees, Old-Age Benefits Institution  جیسے ای او بی آئی کہا جاتا ہے  کا قیام یکم اپریل 1976 کو عمل میں لایا گیا۔ بھٹو دور حکومت کے بعد ضیاءالحق مرحوم کی حکومت و مارشل نے آئین معطل کر دیا ۔ تقریبا 3 عشروں بعد یعنی 2002 کے مشرف دورحکومت میں مزدور پالیسی تشکیل دی گئی۔ اور بعد از 2010 میں پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں آخری مزدور پالیسی بنائی گئی۔
قارئین !ان پالیسیز کا لبِ لباب مزدور کی فلاح ہے۔ لیکن آج حالات آپ کے سامنے ہیں مزدور کی فلاح ایک نعرہ ضرور ہے لیکن عملی طور پر مزدور کی حالت زار اس حد تک ناگفتہ بہ ہے کہ مزدور فاقہ کشیوں، خودکشیوں، گردہ فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ غریب کا چولہا ہر گزرتے دن کے ساتھ بجھتا جا رہا ہے۔سرمایہ دارایت اپنے پنجے روز بروز گاڑھتی جا رہی ہے، مزدوروں کے حقوق کے ضامن سیاستدان (سرمایہ دار) خود ہی غاضب بنے بیٹھے ہیں۔ احتسابی عمل کا غیر فعال ہونا، حکومتی اداروں میں سفارشات، رشوت و ذاتی پسند و ناپسند نے قانون کی حکمرانی کا کمزور بلکہ نحیف کردیا ہے۔ جمہوریت کے لبادے میں آمریت مسلط کی جا رہی ہے۔
ایسے حالات میں جہاں پاکستان ایک تاریخ کے سنگین بحران سے نبرد آزما ہے ضرورت ہے عوامی فلاحی ریاست کی آئینی ڈھانچے پر عمل درامد کی۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ جب تک قانون کی حکمرانی قائم ہوگی اس وقت تک کوئی قوم ، ملک سلطنت بدحالی سے دوچار نہیں ہو گی۔ اور جب قانون پر عمل درامد ہی کمزور پڑ جائے پھر ایسے حالات کا پیدا ہونا فطری عمل ہے جن سے اس وقت ہم سب کو سابقہ ہے۔

مزدوروں کی فلاح میں اگر حکومت، مزدور انجمنیں، این جی اوز اگر واقعتاً مخلص ہیں تو اس عملی بنیادوں پر ان قوانین کو نافذ کرنا ہوگاجو کہ مزدور پالیسیوں میں مرقوم ہیں۔قانون کی روح اس کا نفاذ ہے ،قانون جب تک نافذ نہیں ہو جاتا اس وقت تک وہ بے جان جسم کی مانند ہوتا ہے۔
علامہ اقبال کی ایک نظم:
بندئہ مزدور کو جاکر مِرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا ، ہے یہ پیامِ کائنات


اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دارِ حیلہ گر
شاخِ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات


دستِ دولت آفریں کو مزد یوں ملتی رہی
اہلِ ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکات


ساحرِ الموت نے تجھ کو دیا برگِ حشیش
اور تُو اے بے خبر سمجھا اِسے شاخِ نبات


نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
خوابگی نے خوب چن چن کر بنائے مُسکرات


کٹ مرا ناداں خیالی دیوتائوں کے لیے
سُکر کی لذت میں تو لُٹوا گیا نقدِ حیات


مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور، مات


اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں ترے دور کا آغاز ہے
۔
گوگل پلس پر شئیر کریں

سید آصف جلال

سید آصف جلالؔ بلاگ ہذا کے مصنف ہیں۔ علمی ، ادبی،سیاسی اور معاشی موضوعات پر لکھنے ہیں ۔
    تبصرہ بذریعہ گوگل اکاؤنٹ
    تبصرہ بذریعہ فیس بک

1 تبصروں کی تعداد:

  1. جی ۔ ہمارے ہاں تو ”پلے نئیں دھیلا تے کردی میلہ میلہ“۔ واک آئے دن ہوتی ہے ۔ اگر اس میں حصہ لینے والوں سے پوچھیں کہ اپنے طور انہوں نے کوئی چھوٹا سا کام بھی اُس مقصد کیلئے کیا ہے جس کا نام پر واک کر رہے ہیں تو اپنی بتیسی دکھا دیں گے

    ReplyDelete

بہت شکریہ