.

.

سوشل میڈیا اور ایڈمنز ۔۔


    جیسے مملکتِ پاکستان کو جاگیرداروں، وڈیروں، دھشتگردوں، سیاسی بدمعاشوں نے نرغے میں لیا ہوا ہے ٹھیک اسی طرح

    سوشل میڈیا پر "ایڈمنز" کا قبضہ ہے ۔۔  یہی ہیں جو سوشل میڈیا کے وابسطہ افراد کی ذہنی و فکری تربیت کرتے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں سے براہ راست Interaction اور فوری نتیجہ کا حصول ۔۔۔ لائکس اور شئرز کی بھوک ۔۔ کامنٹ کا نشہ ۔۔ یہ وہ امور ہے جو ایڈمن میں جوش و جزبہ پیدا کرتے ہیں اور اس کو تحریک فراہم کرتے ہیں ۔ صفحے پر موجود مواد ایڈمن کے رجحان کا عکاس ہوتا ہے ۔

    دیکھا گیا ہے کہ بعص اوقات نہایت غیر سنجیدہ، بے علم لوگ لاکھوں ممبران سے صفحے کی وساطت سے ہم کلام ہوتے ہیں اور اپنی غیر شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے صفحات سے میں وابسطہ رہا ہوں جو ذات پسند و ناپسند کو یہ جانے بنا کہ اس کا ممبر پر کیا اثر پڑے گا پوسٹ بنا لیتے ہیں۔ دراصل" ایڈمنی" بھی ایک طرح سے اجارہ داری ہے ۔ یعنی وہ محاورا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ۔
    تاہم اس ضمن میں اللہ کے فضل سے ایسےایڈمنز  بھی ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا کی صحیح معنوں میں رہنمائی کی ہے۔ سماجی فلاح میں اپنا بہت عمدہ کردار ادا کیا ہے ۔ حب الوطنی، پاکستانیت کا درس دیا ہے۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے اصل چہرے کو عوام کے سامنے لایا۔ سوشل میڈیا کا یہ ایک انتہائی مثبت پہلو ہے۔  اس کی حوصلہ افزائی ہمارا فرض ہے ۔

    ہمارے ہاں ایک معمول بن گیا ہے کہ سماجی زندگی کے معاملات کی طرح سوشل میڈیا میں بھی ہم بِنا سوچے سمجھے اپنا وقت گزارتے ہیں۔ مثلاً ہر صفحے کو  سوچے سمجھے بِنا لائک کر دینا ۔ہم  یہ دیکھنے کی چنداں ضرورت محسوس نہیں کرتے  کہ صفحے کا مقصد کیا ہے؟ اس عمل کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہمیں روزانہ  اپنے ہوم پیج پر متفرق قسم کی پوسٹیں پڑھنے کو ملتی ہے جس سے سوچ میں انتشار پیدا کا خدشہ ہوتا ہے ۔ ہمیشہ کسی بھی صفحے کو لائک کرنے سے پہلے اس صفحے میں Info کے حصہ میں جا کر تسلی کر لیں کہ جس صفحے کو آپ لائک کر رہے ہیں وہ آپ کی فکری و علمی تربیت کرے گا۔

    ایڈمنز خود کو ذمہ دار شہری سمجھیں ان   کی ذمہ داری ہے وہ ایسے مواد کی اشاعت ممکن بنائے جس کا سماج کا اچھا اثر پڑے ۔ ہمیشہ اس بات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیئے جو پوسٹ آپ صفحے پر پوسٹ کر رہے ہیں وہ یا تو کسی ذہن کو بگاڑ رہی ہے یا اس  کی مثبت تربیت کر رہی ہے۔ ایڈمن کو صفحے کے مقاصد کو پیش نظر رکھ کر پوسٹ بنانی چاہیے۔ مشاہدہ میں ہے کہ بعض اوقات لائکس اور شئیرز کے حصول کے لئے ایڈمن مقاصد کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ صفحے  کے متعلق ممبران کی رائے بدل جاتی ہے ۔

    ممبران کی ذمہ داری ہے کہ وہ مثبت طرز فکر کے ساتھ پوسٹ پر اپنی رائے دیں۔ اگر ایڈمن کسی غلط پوسٹ کی اشاعت کا مرتکب ہوتو  کامنٹ اور میسج کے ذریعے ایڈمن کی اصلاح کی جائے اگر باربار اس قسم کی صورتحال سامنے آئے تو اس صفحے کو Report کر کے ممبرشپ چھوڑ دیں۔ یاد رہے سوشل میڈیا وہ ہتھیار ہے جس سے اپنی آواز عوام الناس تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس لئے اس تاثر کو برقرار رکھنا ضروری ہے   اور کوئی ایسی حرکت مثلا منفی سوچ پھیلانا، بنا سوچے سمجھے پوسٹ بنانا، عوامی مسائل سے ہٹ کر غیر ضروری مسائل کو focus کرنا اور اس جیسے تمام غیر اخلاقی امور سے پرہیز کیا جائے تا کہ سوشل میڈیا کی ساکھ کو نقصآن نہ پہنچے۔ 

    آخر میں  یہ کہ ایڈمن اس دور کی وہ طاقت ہے جو براہ راست اراکینِ صفحہ کی استاد ہوتا ہے، یہی وہ مدرس ہے جو یا تو کسی ذہن کی مثبت تربیت کرکے اس اچھا انسان بناتا ہے یا اس منفی مواد سے ان کو بگاڑتا ہے۔ اس لئے وہ تمام ایڈمنز جن کو اللہ نے اس طاقت سے نوازا ہے معاشرتی فلاح میں اپنا کردار ادا کریں۔تاکہ ایک خوبصورت معاشرتے کی تشکیل ممکن ہے۔ کیونکہ سوشل میڈیا اور سماج باہم مربوط ہو چکے ہیں۔ قارئین و ناظرین بہت سے تاثرات لے کر میدان عمل میں نکلتے ہیں۔ اچھی سوچ ۔۔۔۔۔ اچھا معاشرہ۔

    ۔
    گوگل پلس پر شئیر کریں

    Syed Asif Jalal

    سید آصف جلالؔ بلاگ ہذا کے مصنف ہیں۔ علمی ، ادبی،سیاسی اور معاشی موضوعات پر لکھنے ہیں ۔
      تبصرہ بذریعہ گوگل اکاؤنٹ
      تبصرہ بذریعہ فیس بک

    1 تبصروں کی تعداد:

    1. بہت خوب ۔اچھے موضوع کی طرف توجہ دلائی ہے۔

      ReplyDelete

    بہت شکریہ