.

.

مکئی کی فصل


    مکئی وادی کونش بٹل کی ایک اہم اور معروف فصل ہے مقامی ہندکو  میں مکئی

    کے بھٹے کو "سلٹہ" کہا جاتا ہے اور پشتوں میں "وگہ/غوگہ" کہلاتا ہے۔ مکئی کی فصل کی بیجائی جون کے اواخر میں کی جاتی ہے ۔۔، زمیندار زمینوں میں زیادہ تر اسی فصل کو کاشت کرتے ہیں کیونکہ یہ فصل گاؤں کی زمین کے لئے بہت موزوں رہی ہے ۔۔۔ مکئی کا کٹائی ستمبر کے اواخر سے شروع ہو کر اکتوبر تک جاری رہتی ہے ۔


    وکی پیڈیا نے جو تاریخ ہم تک پہنچائی ہے اس کے مطابق مکئی کا تعلق گھاس کے خاندان سے ہے جس سے اناج کی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ مکئی کو پہلی بار وسط امریکہ میں دریافت کیا گیا اور رفتہ رفتہ یہ پورے امریکہ اور پھر دنیا میں پہلے امریکہ کو دریافت کرنے والے یورپ اور پھر افریقہ اور ایشیاء میں پھیل گیا۔ دنیا بھر میں مکئی کی سب سے زیادہ پیداوار امریکہ میں ہوتی ہے جس کا اندازہ تقریباً 332 ملین میٹرک ٹن سالانہ لگایا گیا ہے۔ روایتی طور پر مکئی کے ہائبرڈ یا کثیر قسموں کے ملاپ کو ترجیح دی جاتی ہے، اس کی وجہ حاصل ہونے والی پیداوار ہے۔ مکئی کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو تقریباً 7 میٹر تک بلند ہو سکتی ہیں، جبکہ معیاری طور پر مکئی کے پودے کی اوسط اونچائی 2.5 میٹر ہوتی ہے۔

    طبعی تحقیق کے مطابق ک بادی اور قابض ہے‘ بھوک بڑھاتی اور بدن کو فربہ کرتی ہے۔ بلغم صفرا اور باد کے فساد کو دور کرتی ہے۔ دیر ہضم ہے‘ باہ کو قوت دیتی ہے‘ بدن کو قوت دیتی ہے‘ زیادہ استعمال کرنے سے درد شکم‘ قولنج اور بواسیر کی شکایت ہوجاتی ہے۔ کھانے کے بعد ہونے والی قے کو روکتی ہے۔ سل کے مریضوں میں اس کی روٹی اچھی ہے۔ آنکھوں کی بصارت بڑھاتی ہے۔ کمزور لاغر بدن کو قوت دیتی ہے۔ اس کے آٹے کا لپٹا بنا کر مریض کو پلانے سے صحت ہوتی ہے اور بھوک میں خوب اضافہ ہوتا ہے۔ مکئی کا تیل بدن کو فربہ کرتا ہے۔ اچھی مکئی کے کھانے سے بدن فربہ ہوتا ہے لیکن جس کو موافق نہ آئے اس کو لگاتار کھانے سےدست آنے لگتے ہیں۔

    اس کے پومل یا کھیلیں مریض کو ہرگز نہ کھلائے جائیں اس کی گلی کا کوئلہ کرکے اور پیس کر پھانکنا حیض اور بواسیر کے خون کو بند کرتا ہے۔ مکئی کی گلی چھ ماشہ ہیضہ کے مریض کو پیس کر دیں تو فوراً فائد ہوتا ہے۔ اس کی گلی کی راکھ میں نمک ملا کر پھنکی لگانے سے کالی کھانسی اور زکام کی کھانسی کو بہت جلد فائدہ ہوتا ہے۔ اسے دن میں پانچ پانچ رتی تین مرتبہ دیتے ہیں۔ اس کی ڈاڑھی کا جوشاندہ یا خیساندہ پلانے سے مثٓانہ کے امراض اور پیشاب کی جلن دور ہوتی ہے اور پیشاب خوب آتا ہے۔ یونانی اطباء کے مطابق مکا بلغم اور خون بستہ کو تحلیل کرتی ہے۔ دستوں کو روکتی ہے‘ سل میں مفید ہے۔ اس کا آتا سرکے میں ملا کر لیپ کرنے سے خارش اور ہاتھ پاؤں و ناخنوں کے پھٹنے کو مفید ہے۔ اس کے جوشاندہ کا حقنہ آنتوں کے زخم کو دور کرتا ہے اس میں غذائیت گیہوں سے کم ہے۔

    ایک اور تحقیق کے مطابق  جو لوگ مکئی کا استعمال کرتے ہیں ان میں بلڈشوگر‘ انسولین کی مقدار مناسب حد تک کنٹرول کی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین نے دو ایسے گروپس میں شامل افراد کا موازنہ کیا جو ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا تھے۔ ایک گروپ نے فائبر (نشاستہ) پر مشتمل غذا کا استعمال کیا جبکہ دوسرے گروپ نے کم نشاستہ والی غذا استعمال کی گئی۔ پہلے گروپ میں صحت کی جانب سے مثبت نتائج ظاہر ہوئے کیونکہ ان افراد نے چوبیس گرام تک فائبر روزانہ استعمال کیا جبکہ دوسرے گروپ میں کولیسٹرول اور بلڈشوگر کی شکایات بدستور جاری رہیں۔مکئی کو پاپ کارن‘ سوپ‘ سلاد اور سالن وغیرہ میں پکایا جاتا ہے اور ایک طرح سے اس کو گرمیوں میں باربی کیو کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مکئی کے بھٹے اور سٹے بچوں میں مقبول عام ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پھلوں اور سبزیوں میں اگر مکئی کو زیادہ ترجیح دی جائے تو زیادہ مفید ہے۔

    گاؤں کی زندگی میں مکئی کی فصل کو بہت اہمیت حاصل ہے،جب فصل پکنے کے مراحل میں ہو تو اس دوران نیم پکے ہوئے بھٹے کوئلوں یا سرخ انگاروں پر رکھ کر پکایا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے تیار ہونے والے بھٹے لذت سے بھرپور ہوتے ہیں ۔  مکئی کے دانوں توے پر بھون کر بھی پکایا جاتا ہے اور سے اخروٹ  کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔فصل جب مکمل پک جائے تو اسے تھریشر کے ذریعے سے بھٹوں سے دانے الگ کر کےبوریوں میں بند کر لیا جاتا ہے، بعد ازاں اپنی ضرورت کے مطابق یا تو اسے پن چکی پر پیس آٹے نکالا جاتا ہے یا اسے تجارتی سرگرمیوں میں استعمال کر لیا جاتا ہے۔

    ۔
    گوگل پلس پر شئیر کریں

    سید آصف جلال

    سید آصف جلالؔ بلاگ ہذا کے مصنف ہیں۔ علمی ، ادبی،سیاسی اور معاشی موضوعات پر لکھنے ہیں ۔
      تبصرہ بذریعہ گوگل اکاؤنٹ
      تبصرہ بذریعہ فیس بک

    6 تبصروں کی تعداد:

    1. Very Nice Information

      ReplyDelete
    2. Replies
      1. جزاک اللہ برادرم اعجاز بھٹی صاحب ۔

        Delete
    3. بہت لطف آیا پڑھ کے۔
      سید فواد بخاری

      ReplyDelete
    4. آصف بھایہ بہت ہی معلوماتی تحریر ہے،ہم اسکو کھاتے تو ہیں لیکن اتنی افادیت کا علم نہ تھا۔شکریہ

      ReplyDelete
    5. اچھی معلومات بہم پہنچائی ہیں آپ نے

      ReplyDelete

    بہت شکریہ