.

.

واقعہ کربلا اور اور اس کا تقاضہ


    1374  سال سے واقعہ کربلا کے حوالے سے امت کی اکثریت دو انتہاؤں میں پِس رہی ہے ۔۔ لیکن اس وقوعہ کو شعوری طور
    پر کوئی تسلیم کرنے کو رضامند نہیں ۔   مراد میدان کربلا میں ہونے والے معرکہ میں جگرِ رسول ﷺ اور ان کے اہل و عیال کا حکومتِ وقت کے خلاف سربکف ہوکر نکلنے کا مقصود کیا تھا ؟ وہ کونسے محرکات تھے جس بنا پر سرکارِ دو عالم ﷺ کے نواسہ اقدس حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم نے کربلا کے میدان میں خیمہ زن ہوئے ؟


    قارئین یقیناً ظلم کے خلاف جہاد بالسیف ۔۔۔قارئین ۔ جب ظلم کا بازار گرم ہوگا تو تلواریں بے نیام ہو گی ، جب اہل حکم حکومت کو اپنی جاگیر سمجھیں گے  تب شمشیریں  ان کے استقبال کو بے تاب ہونگی ۔۔۔ واقعہ کربلا میں میدان کربلا یہی منظر پیش کر رہا تھا۔ اپنی محدود طاقت سے قطع نظر اہل اقتدار اور اس کی فوج ظفر موج سے صف آراء ہونا،  نااہل حکمرانوں کے خلاف بغاوتی علمبرداری  اور قاتلینِ انصاف کا قبلہ درست کرنے کی جس جدوجہد کا منظر آج سے 1374 سال پہلے میدانِ کربلا نے دیکھا ۔ وہ تاریخ کے صفحات نے آنے والی نسلوں تک محفوظ کر لیا۔ وہ منظر جب حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے حکومتِ وقت کے خلاف جہادی عَلم بلند کیا اور شہادت کے رتبے پر فائز ہوکر آنے والے ان نسلوںیہ سبق سکھلا یا کہ اگر دنیا میں اللہ جل شانہ کی اطاعت کا دعویٰ کرتے ہو توان لوگوں کے خلاف سربکف ہونے کو تیار ہو جاوں جو الہیٰ شریعت پر اپنی مرضی و منشاء کو ترجیح دیتے ہیں ۔ جن کے قلوب خوفِ خدا سے عاری ہیں ۔ جو دنیاوی شان و شوکت کے رسیا ہیں ۔



    تاریخ نے میدان کربلا  کا سارا منظر اپنے سینے میں دفن کیا ہوا ہے ۔ تاریخ نے یزید کے کردار کو بھی لکھا،  اور حسین رضی اللہ عنہم کے کردار کو بھی محفوظ کیا ، ابن زیاد کا کردار بھی سینے میں دفن ہے جبکہ مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو بھی سینے سے لگایا ہوا ہے ۔ تما م واقعات تاریخ کے طلباء سمیت عوام الناس کو بخوبی معلوم ہیں ان کی تفصیل اور جائزے لینا مجھ سیاہ کار کے لئے عبث ہوگا۔میرا مقصود صرف اس امر پر  کلام کرنا ہے واقعہ کربلا کی تاریخ 1374 سال سے مسلم امہ پر گزرتی ہے، اور ہر سال محرم الحرام کے پہلے عشرے میں سیرت حسین رضی اللہ عنہم اور واقعہ کربلا کے موضوع پر مختلف مکاتبِ فکر کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں ، شعراء واقعہ کربلا کو شعری انداز میں بیان کرتے ہیں، مذہبی علماءواقعہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ پر خطابت فرماتے ہیں ، سکالرز اپنے مقالہ جات پیش کرتے ہیں لیکن واقعہ کربلا سے جو سبق عوام الناس  اور طبقہ خواص کو سیکھنا چاہیئے اور کا فقدان ہمیں نظر آرہا ہے ۔ 
     
    ظلم کے خلاف صف آرائی کی جو سنت میرے آقا ﷺ کے جگر گوشے و نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے قائم کی ہے وہ ہم سب کے لئے مشعل را ہ ہے۔ ا جب امارت کو خالق کائنات کی امانت نہیں سمجھا جائے گا، جب حکومتیں اپنی مرضی و منشاء سے چلائی جائینگی، جب اہل اقتدار پر مال و زر کے پجاریوں کا قبصہ ہوگا،  جب شریعت کے ساتھ منافقانہ روش اختیار کی جائے گی، جب عوام سے ان کے حقوق سلب کیے جائیگے ، جب حکومتی معلاملات میں شرعی رہنمائی کا فقدان ہوگا، جب جب عدالتوں میں الہی قوانین کے بجائے انسانوں مرتب کردہ قانون نافذ ہونگے تو تب مشنِ حسین رضی اللہ عنہ میدان کربلا سجائے گا، تب ظلم کی گردن اور منصف کی تلوار ہوگی ۔ایک خوبصورت کلام۔۔۔۔۔    نذرانہء عقیدت

    جو پیاس وسعت میں بے کراں ہے سلام اس پر
    فرات جس کی طرف رواں ہے سلام اس پر
    سبھی کنارے اسی کی جانب کریں اشارے
    جو کشتیٔ حق کا بادباں ہے سلام اس پر
    جو پھول تیغِ اصول سے ہر خزاں کو کاٹیں
    وہ ایسے پھولوں کا پاسباں ہے سلام اس پر
    مری زمینوں کو اب نہیں خوفِ بے ردائی
    جو ان زمینوں کا آسماں ہے سلام اس پر
    ہر اک غلامی ہے آدمیّت کی نا تمامی
    وہ حریّت کا مزاج داں ہے سلام اس پر
    حیات بن کر فنا کے تیروں میں ضو فشاں ہے
    جو سب ضمیروں میں ضو فشاں ہے سلام اس پر
    کبھی چراغِ حرم کبھی صبح کا ستارہ
    وہ رات میں دن کا ترجماں ہے سلام اس پر
    میں جلتے جسموں نئے طلسموں میں گِھر چکا ہوں
    وہ ابرِ رحمت ہے سائباں ہے سلام اس پر
    شفق میں جھلکے کہ گردنِ اہلِ حق سے چھلکے
    لہو تمھارا جہاں جہاں ہے سلام اس پر
    ۔
    گوگل پلس پر شئیر کریں

    سید آصف جلال

    سید آصف جلالؔ بلاگ ہذا کے مصنف ہیں۔ علمی ، ادبی،سیاسی اور معاشی موضوعات پر لکھنے ہیں ۔
      تبصرہ بذریعہ گوگل اکاؤنٹ
      تبصرہ بذریعہ فیس بک

    2 تبصروں کی تعداد:

    1. آپ کا یہ کالم آپ کے دوسرے کالم (شریعت یا منافقت مطابقت نہیں رکھتا۔

      ReplyDelete
      Replies
      1. محترم اہل َ علم صاحب! ہم ریاست کے قیام کے مخالف نہیں ۔ بلکہ ہمیں ریاستی قیام کی جدوجہد کے طریقہ کار سے اختلاف ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ ا امام حسین رضی اللہ عنہ قصدَ جنگ سے کربلا تشریف نہیں لے گئے تھے بلکہ انہوں نے تو جنگ بندی کی جانب قدم اٹھایا اور اس کے لئے انہوں نے شرائط پیش کیں تاکہ خون خرابہ نہ ہو ۔
        اسلام امن کا مذہب ہے۔ سماجی فساد کے ہر امر کی مزمت کرتا ہے ۔

        Delete

    بہت شکریہ