.

.

طالبان سے مذاکرت اور ریاست کی ذمہ داری

    آپریشن کر لیں ۔ ۔ ۔ جیٹ طیاروں سے بمباری کر کے جسموں کے چیٹھرے اڑا دیں ۔ ۔ ۔ طالبانائزیشن کو جَڑ سے اُکھاڑدینے کی نیت سے ان کے خلاف 'جہادی عَلم' بلند کر دیجئے ۔۔۔ لیکن مملکتِ پاکستان کی قیادت سے میں یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں ۔کیا اس آپریشن سے طالبان ختم ہو جائیں گے؟
    کیا جیٹ طیاروں کی بمباری اس نظریے کو تباہ کر سکتی ہے جو طالبان کے ذہن میں پرورش پارہا ہے؟


    طالبان کو ختم کر بھی لیا جائے لیکن اس سوچ کو ختم کرنا (حالاتِ حاضرہ) میں ممکن نہیں کیونکہ طالبان کے جملہ رویے ایک بنیاد اور اساس پر قائم ہیں ۔۔ طالبان کا قتل اُن کے نزدیک ایک عظیم شہادت ہے اور 'شہادت' سے اس رُتبے پر فائز ہونے کیلئے طالبان کی جماعت کا ہر فرد اپنی جان کا نذرانہ دینے کو تیار ہے ۔۔

               طالبان نفسیات، ان کے اساسی عقائد، بنیادی نظریات، فکری قوت، دینی پسِ منظر کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہی کوئی بھی قدم اٹھانا ایک دانشــــمدانہ فیصلہ ہوگا ۔۔ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا اس آپریشن کے مطلوبہ نتائج حاصل ہونگے؟
    میرا خیال ہے ایسا نہیں ۔۔ عسکری جنگ ایک عظیم قربانی کی طالب ہوتی ہے ۔۔مذاکراتی عمل کے دورانیہ میں ایف سی اہلکاروں اور ایک میجر کی شہادت اس جنگ میں جانی قربانی تھی ۔۔یہ بات شک و شبہ سے خالی ہو گئی ہے کہ پاکستانی ریاست اس وقت حالتِ جنگ میں ہے ۔۔ اور ہماری قیمتی جانوں کا ضیاع اس جنگ کی حصہ ہے جو ہم مذاکراتی عمل سے کر رہے ہیں ۔۔ اب ان شہداء کی شہادت کو جواز بنا کر طالبان کے خلاف آپریشن کرنے کا اقدام میں نہیں سمجھتا کہ درست سمت میں ایک قدم ہے ۔۔

    ہماری قومی سوچ اپنی جگہ! لیکن طالبان اس وقت شریعت کے نفاذ کے لئے حکومت سے لڑ رہے ہیں چہ جائیگہ شریعت کو کونسا ماڈل اس ریاست میں لاگو ہوگا۔ نفاذ شریعت کے اس فلسفہ کیلئے وہ اپنی جانوں کے نذرانے دینے کیلئے تیار ہیں۔ اور جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ ان کے نزدیک شہادت ایک عظـــیم مرتبہ ہے جو کسی خوش نصیب کے حصہ میں آتا ہے ۔۔

    ہم یہ نہیں کہتے کہ ریاست ان کے سامنے ہتھیار ڈال دے ۔ بلکہ ہم اس سوچ کے حامی ہیں طالبان کے ساتھ جو مذاکراتی عمل شروع ہوا ہے اس کو (کچھ قربانیاں دے کہ جیسا کہ ماضی قریب کے واقعات ہیں) پائی تکمیل تک پہنچایا جائے ۔۔ مجھے مکمل بھروسہ ہے ہمارے ایف سی اہلکاروں اور فوجی افســـران کی قربانیاں ہر گز ضائع نہیں جائینگی ۔۔ اور قیام امن کیلئے ان کی جان کا نذرانہ تاریخ کی ورق پر ہمیشہ زندہ رہےگا۔

    ریاست کو یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ وہ کون سے محرکات ہیں جو مذاکراتی عمل سبوتاژ کرنے کے در پہ ہیں ۔ کوئی خفیہ ہاتھ تو اس میں ملوث نہیں؟؟ حفیہ اداروں کا بھی ایک بہت بڑا امتحآن ہے ۔
    اپریشن مسائل کا حل نہیں ۔۔ کچھ قربانیوں کے ساتھ مذکراتی عمل کو منطقی انجام تک پہنچانا ہی ریاست کی بقا ہے۔۔
    ۔
    گوگل پلس پر شئیر کریں

    Syed Asif Jalal

    سید آصف جلالؔ بلاگ ہذا کے مصنف ہیں۔ علمی ، ادبی،سیاسی اور معاشی موضوعات پر لکھنے ہیں ۔
      تبصرہ بذریعہ گوگل اکاؤنٹ
      تبصرہ بذریعہ فیس بک

    2 تبصروں کی تعداد:

    1. محترم یوں سمجھ لیجئے کہ میں دو جماعت پاس ناتجربہ کار آدمی ہوں ۔ میری سمجھ کے مطابق ٹی ٹی پی ایک ایسا مرکب ہے کہ موجودہ کشت و خون کو وہ خود بھی نہیں روک سکتے ۔ کچھ لوگ ان میں خواہش مند ہوں گے کہ کشت و خون بند ہو اور امن سے زندگی گذاریں اور کچھ ہوں گے جن کی روزی ہی اس کشت و خون سے چل رہی ہے ۔ اس گورکھ دھندے کو سمجھنا بہت مشکل ہے ۔ رہی معلومات حاصل کرنے والی خفیہ ایجنسیاں تو ان میں بھی کون محبِ وطن ہے اور کون ننگِ دین ننگِ وطن معلوم کرنا کافی دشوار ہے ۔ یہ ناسور حکومتِ وقت کے زیرِ نظر 2001ء میں پھوٹا تھا اور 8 سے 12 سال تک نشو و نما پاتا رہا ۔ اب اس بیماری سے نجات پانے کیلئے تمام پاکستانیوں کو یک جا ہونا ہو گا اور اپنے پچھلے گناہوں سے توبہ کر کے آئیندہ سیدھی راہ پر چلنا ہو گا ۔ ہمیں پوی معلومات نہیں ہیں ۔ جو اپنے آپ کو سیاستدان سمجھتا ہے وہ اپنی سیاست چمکانے کی خاطر جو چاہتا ہے بیان داغ دیتا ہے ۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ دکھائے اور اس پر چلنے کی بھی توفیق عطا فرمائے

      ReplyDelete
    2. افتخار اجمل صاحب صحیح فرما رہے ہیں۔ اس میں مزید اضافہ ان الفاظ کے ساتھ کیا جا سکتا ہے کہ شریعت کا مطالبہ کرنے والے اپنی ذات پر شریعت نافذ نہیں کرتے۔ اور ریاست ان کے ہاتھ ہے جو ریاست کے آئین کواس کی اصل روح کے ساتھ نافذ نہیں کرنا چاہتے۔ عوام کا برا حال ہے ملک چلانے کے لئے جس پہیہ کا انتخاب کرتےہیں اس میں 35 پنکچر لگ جاتے ہیں۔

      ReplyDelete

    بہت شکریہ